امریکہ نواز عرب حکام کا اسلام اور انسانی اصولوں پر کوئی اعتقاد نہیں

خبرگان رہبری کونسل کے رکن آیت اللہ عبد النبی نمازی نے لیبیا ، یمن ، بحرین اور سعودی عرب میں جاری عوامی مظاہروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نواز علاقائی عرب حکام کا انسانی اصول پر کوئی اعتقاد نہیں ہے اور عرب حکام اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے بے رحمی اور سفاکی کے ساتھ عوام کا قتل عام کررہے ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عرب حکام کا نہ صرف اسلام پر بلکہ انسانیت پر بھی کوئی اعتقاد نہیں ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں خبرگان رہبری کونسل کے رکن آیت اللہ عبد النبی نمازی نے لیبیا ، یمن ، بحرین اور سعودی عرب میں جاری عوامی مظاہروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نواز علاقائی عرب حکام کا انسانی اصول پر کوئی اعتقاد نہیں ہے اور عرب حکام اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے بے رحمی اور سفاکی کے ساتھ عوام کا قتل عام کررہے ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عرب حکام کا نہ صرف اسلام پر بلکہ انسانیت پر بھی کوئی اعتقاد نہیں ہے انھوں نے کہا کہ علاقائی عرب حکام کے مسلمان ہونے میں پہلے سے ہی شکوک و شبہات موجود تھے کیونکہ عرب حکام  امریکی اور اسرائیلی آلہ کار ہیں لیکن حالیہ واقعات سے صاف ظآہر ہوگیا ہے کہ عرب حکام کا نہ تو اسلام پر کوئی اعتقاد اور یقین ہے اور نہ ہی وہ انسانی اصولوں کے پابند ہیں وہ امریکی شیڈول کے مطابق عمل کررہے ہیں اور وہ چند دن کے لئے اپنے اقتدار کو بچانے کی خاطر پوری قوم کا قتل عام کرنے کے لئے تیار ہیں انھوں نے کہا کہ امریکہ نے سعودی عرب کو بحرین میں داخل ہونے کے لئے ہری جھنڈي دکھائی اور سعودی حکام نے اپنے فوجیوں کو بحرین میں پرامن مظاہرین کو کچلنے کے لئے روانہ کردیا انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کا اقدام بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور اشتعال انگيز ہے انھوں نے کہا کہ بحرین میں شیعہ اور سنی متحد ہیں اور امریکہ سعودی عرب کے ذریعہ شیعہ اور سنیوں کے درمیان اختلاف ڈالنے کی کوشش کررہا ہے جس بحرین کے شیعہ اور سنیوں نے ناکام بنادیا ہے۔ آیت اللہ نمازی نے کہا کہ مسئلہ شیعہ اور سنی کا نہیں ہے مسئلہ حق اور باطل کا مسئلہ ہے مسئلہ ظالم اور مظلوم کا مسئلہ ہے مسئلہ جمہوریت اور عوامی مطالبات اور آئینی اصلاحات کا مسئلہ ہے انھوں نے کہا کہا شیعہ اور سنی متحد رہ کرے امریکہ اور اس کے آلہ کاروں کی سازشوں کو ناکام بنادیں گے۔

News Code 1276864

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 14 =