سعودی فوجی بحرین میں شیعوں کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں

قم- مہر خبررساں ایجنسی: بحرین کے ایک شیعہ عالم دین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے فوجی شیعوں کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں اور اسی لئے بحرینی حکومت نے شیعوں کے قتل عام کے لئے سعودی فوجیوں کو طلب کیا ہے انھوں نے بحرین میں سعودی فوجیوں کے ہاتھوں انسانی المیہ پر خبردار کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قم میں بحرین کے ایک شیعہ عالم دین نے بحرین کے حالات کا جائزہ بیان کرتے ہوئے کہنا ہے کہ سعودی عرب کے فوجی شیعوں کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں اور اسی لئے بحرینی حکومت نے شیعوں کے قتل عام کے لئے سعودی فوجیوں کو طلب کیا ہےبحرینی عالم دین نے بحرین میں سعودی فوجیوں کے ہاتھوں انسانی المیہ پر خبردار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بحرینی مظاہرین پہلے بحرین کے سیاسی نظام میں اسلامی بنیادوں پراصلاحات کا مطالبہ کرتے تھے لیکن شہداء اسکوائر (پرل اسکوائر) سعودی عرب اور بحرینی فوجیوں کے ہاتھوں بچوں عورتوں اور مردوں کے وحشیانہ قتل عام کے بعد بادشاہی نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں انھوں نے کہا کہ بحرینی حکومت نے شیعوں کے خلاف جھوٹے پروپگینڈہ کے باوجود جوانوں کو اسلامی تحریک سے الگ نہیں کرسکی انھوں نے کہا کہ بحرینی حکومت ضعیف و ناتواں حکومت ہے اور اس نے اپنی کمزوری کو  دور کرنے کے لئے سعودی عرب اور امارات سے فوجی مدد طلب کی انھوں نے کہا کہ بحرینی حکومت سعودی عرب کی مدد سے قائم نہیں رہ سکتی بحرینی عالم دین نے کہا کہ سعودی عرب کی لشکر کشی کے بعد 400 افراد زخمی اور 6 افراد شہید ہوگئے ہیں اور سعودی فوجیوں کی بربریت بحرین میں جاری ہے اور سعودی فوجی زخمیوں کے علاج میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں جس کے بعد بحرین کے وزير صحت نے استعفی دیدا ہے اور حکومت نے اسپتال بھی فوج کے حوالے کردیئے ہیں جہاں زخمیوں کا علاج بھی نہیں ہورہا ہےاور سعودی فوجی زخمیوں کو بھی تشدد و سفاکی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ بحرین میں پرامن مظآہروں کو کچلنے کے لئے سعودی عرب نے اپنے ایک ہزآر فوجی بحرین روانہ کئے ہیں جنھوں نے بحرینی عوام کا دل کھول کر خون بہایا ہے عالمی اور بین الاقوامی سطح پر سعودی عرب کے اس اقدام کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔

News Code 1276394

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 8 =