امریکہ کے جاسوس اور قاتل شہری ریمنڈ ڈیوس کو پاکستانی عدالت نے رہا کردیا

پاکستان کے شہرلاہور میں فائرنگ کر کے دو پاکستانی نوجوانوں کو ہلاک کرنے والے امریکی جاسوس ملزم ریمنڈ ڈیوس کو مقامی عدالت نے بری کر دیاہے ریمنڈ ڈیوس امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کا اہلکار ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے شہرلاہور میں فائرنگ کر کے دو پاکستانی نوجوانوں کو ہلاک کرنے والے امریکی جاسوس ملزم ریمنڈ ڈیوس کو مقامی عدالت نے بری کر دیاہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کےوزیر قانون رانا ثنااللہ نے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئےکہا ہےکہ مقتولین کے ورثا کی طرف سے ملزم کو معاف کرنے کے بعد اسے رہا کیا گیا۔ملزم ریمنڈ ڈیوس نے ڈیڑھ ماہ قبل27 جنوری کو لاہور کے مزنگ چوک میں دو افراد فیضان اور فہیم کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا،واقعے کے بعد اسے مقامی پولیس نے گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا تھا،ابتدائی طور پر یہ کیس مقامی عدالت میں چلا تاہم اس پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے رویے امریکی دباؤ اور عوامی ردعمل کے بعد حساس نوعیت اختیار کرنے پر اس کی سماعت سنٹرل جیل لاہور میں کی جاتی رہی۔کیس کی سماعت کے دوران سفارتی اسثنیسمیت کئی قانونی معاملات زیربحث آتے رہے اور مختلف نوعیت کے نشیب و فراز کے بعد بالآخر آج اسے رہائی مل گئی،مقتولین کے ورثا کے وکیل اسد منظور بٹ نے الزام عائد کیا کہ آج سنٹرل جیل میں کیس کی سماعت تھی،سماعت سے قبل فیضان اور فہیم کے ورثا کو گھروں سے اٹھا کر عدالت میں لایا گیا ،وکلا کو بھی گن پوائنٹ پر روکا گیا اور کوئی بات میڈیا کو بتانے کی صورت میں دھمکیاں دی گئیں۔وکیل کے مطابق ورثا سے زبردستی دیت کے کاغذات پر دستخط کرائے گئے ،جس کے بعد پہلے امریکی قونصلیٹ کی چار گاڑیاں روانہ ہوئیں اور بعد میں وکلا کو نکلنے کی اجازت دی گئی۔پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنااللہ نے امریکی ملزم ریمنڈ ڈیوس کو بری کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ساری کارروائی قانون کے مطابق انجام دی،عدالت میں پہلے ملزم پر فردجرم عائد ہوئی،جس کے بعد ورثا بھی عدالت میں پیش ہوئے ،جن کی طرف سے دیت کے کاغذات پیش کیے گئے،رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ دیت کے معاملے سے حکومت پنجاب کا کوئی تعلق نہیں ،عدالت کو ملزم کو معاف کرنے کا حق ہے.بعض ذرائع کے مطابق ورثاء سے دستخط زبردستی کروائے گئے ہیں لیکن امریکی اپنے جاسوس اور قاتل شہری ریمنڈ ڈیوس کو بحفاظت عدالت سے امریکیقوصلخانہ میں لے گئے ہیں  ملزم پر آج ہی فرد جرم عائدکی گئی اور آج عدالت سے آج ہی ملزم کو رہا کردیا گیا اس عمل سے معمالے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ آیا ورثا نے اپنی مرضی سے معاف کیا یا زبردستی معاف کروایا گیا۔

News Code 1275791

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 1 =