حلبچہ کا المیہ عالمی برادری کی خاموشی کی وجہ سے رونما ہوا

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی مشترکہ کمان کے سربراہ نے کہا ہے کہ عراق کے معدوم صدر صدام نے حلبچہ شہر پرکیمیاوی ہتھیاروں سے جو حملہ کیا تھا وہ عالمی برادری کی خاموشی اور سکوت کی وجہ سے تھا اور حلبچہ میں انسانی المیہ کے بعد امریکہ اور یورپ کی طرف سے انسانی حقوق کی متضادحمایت کا پردہ چاک ہوگیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی مشترکہ کمان کے سربراہ سید حسن فیروز آبادی نے کہا ہے کہ عراق کے معدوم صدر صدام نے حلبچہ شہر پرکیمیاوی ہتھیاروں سے جو حملہ کیا تھا وہ عالمی برادری کی خاموشی اور سکوت کی وجہ سےتھا اور حلبچہ میں انسانی  المیہ کے بعد امریکہ اور یورپ کی طرف سے انسانی حقوق  کی متضادحمایت کا پردہ چاک ہوگیا۔ انھوں نے کہا کہ صدام معدوم کی بعثی حکومت نے کیمیاوی ہتھیاروں کے ذریعہ کئی ہزار عراقیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور ایرانی فوجیوں کے خلاف بھی کیمیاوی ہتھیاروں کا بھر پور استعمال کیا انھوں نے کہا کہ ایران کے خلاف مسلط جنگ میں امریکہ اور یورپ کی جانب سےصدام معدوم کی بھر پور حمایت کی جارہی تھی اور ایران کے خلاف صدام کو انھوں نے جدید ترین اورمہلک ہتھیاروں سےمسلح کیا اور صدام نے عراقی کردوں اور ایرانی شہریوں اور فوجیوں کے خلاف  آشکارا جنگی جرائم کا ارتکاب کیا جبکہ انسانی حقوق کے نام نہاد مدعی تماشا دیکھتے رہے  لیکن جب شیطانی محاذ میں اختلاف ایجاد ہوا تو بڑے شیطان نے چھوٹے شیطان کا گلاخود ہی کاٹ دیا انھوں نے کہا کہ امریکہ کے حامی تمام حکام کو اپنی زندگی کے آخری ایام میں سخت ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کبھی امریکہ خود ہی انکا گلا دبا دیتا ہے یا مشکل وقت میں ان کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حلبچہ کے المیہ میں عالمی برادری صدام معدوم کے جرائم میں برابر کی شریک ہے۔ واضح رہے کہ 15 مارچ 1988 ء میں صدامی فوجیوں نے ایران فوجیوں کی پیشقدمی کو روکنے کے لئے عراقی شہر حلبچہ پر کیمیاوی ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں کئی ہزار کردخواتین بچے اور مرد ہلاک ہوگئے تھے۔

News Code 1273666

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 9 =