دوسری جنگِ عظیم کے بعدجاپان میں زلزلہ اور سونامی سے وسیع تباہی سب سے بڑا المیہ ہے

جاپان کے وزیر اعظم ناوتو کاننےٹی وی پر عوام سے خطاب کرتے ہوئےکہا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان کو اس وقت شدیدزلزلے اور سونامی کی وجہ سے ہونے والی تباہی سے بدترین بحران کا سامنا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے الجزیرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ جاپان کے وزیر اعظم ناوتو کاننےٹی وی پر عوام سے خطاب کرتے ہوئےکہا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان کو اس وقت شدیدزلزلے اور سونامی کی وجہ سے ہونے والی  تباہی سے بدترین بحران کا سامنا ہے۔ جاپانی وزیر اعظم نے ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے عوام کو متنبہ کیا کہ بجلی کی شدید کمی کے باعث بجلی کی فراہمی معطل ہو گی۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد پینسٹھ سالوں میں یہ دبترین بحران ہے۔ ہم اس بحران پر قابو پا سکتے ہیں یا نہیں اس کا انحصار ہم پر ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مل کر ہم اس کا سامنا کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب جاپان کے شہر فوکوشیما میں حکام دوسرے ایٹمی ری ایکٹر میں تابکاری کے اضافے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس سے قبل جاپان کی تاریخ میں جمعہ کو آنے والے بدترین زلزلے میں ایک جوہری گھر کو نقصان پہنچا تھا۔

حکام کے مطابق دوسرے ایٹمی گھر کا ری ایکٹر نمبر تین کا ایمرجنسی کولنگ نظام خراب ہو گیا ہے۔ اسی مسئلے کے باعث ہفتے کو ایک ری ایکٹر میں زور دھماکہ ہوا تھا جس کے بعد جاپانی حکام نے پلانٹ کے اطراف میں بیس کلو میٹر کا علاقہ خالی کرانے کا حکم دے دیا تھا پولیس کے مطابق شہر میاگی میں ہلاکتوں کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کرسکتی ہے میاگی میں سونامی سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے ۔

News Code 1273572

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 2 =