سعودی عرب کے مختلف شہروں میں عوام کا یوم قہر و غضب

سعودی عرب میں بھی عوام نےدیگر عرب ملکوں کی طرح حکومت کو اقتدار سے الگ کرنے اور جمہوری نظام لانے کے سلسلے میں جد وجہد کا آغاز کردیا ہے آج سعودی عرب میں یوم قہر و غضب منایا جارہا ہے جب کہ حکومت نے سخت سکیورٹی انتظامات کررکھے ہیں اور جلسے جلوسوں پر پہلے سے ہی پابندی عائد کررکھی ہے سعودی حکومت کے خلاف شیعہ و سنی متحد ہوکر میدان میں کود پڑے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے الرامد چینل کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب میں بھی عوام نےدیگر عرب ملکوں کی طرح حکومت کو اقتدار سے الگ کرنے اور جمہوری نظام لانے کے سلسلے میں جد وجہد کا آغاز کردیا ہے آج سعودی عرب میں یوم قہر و غضب منایا جارہا ہے جب کہ حکومت نے سخت سکیورٹی انتظامات کررکھے ہیں اور جلسے جلوسوں پر پہلے سے ہی پابندی عائد کررکھی ہے  سعودی حکومت کے خلاف شیعہ و سنی متحد ہوکر میدان میں کود پڑے ہیں۔ سعودی عرب میں کئی ہزار شیعہ جیلوں میں بغیر کسی مقدمہ چلائے بند ہیں شیعہ برادری جیلوں سے سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن سعودی حکومت نے مظاہرین کو کچلنے  کا کام شروع کردیا ہےمظاہرین میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جن کے رشتہ دار قید میں بند ہیں اور وہ ان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔کچھ لوگ سعودی عرب کے مختلف شہروں میں اس جمعہ کو ’یوم الغضب کے طور پر منانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔سیاسی اصلاحات کا مطالبہ ابھی کئی حلقوں کی طرف سے کیا جا رہا ہے جن میں شیعہ، سنی، قدامت پسند اور معتدل خیالات کے سبھی لوگ شامل ہیں۔ اسی وجہ سے سعودی حکام کو خطرہ ہے۔ مظاہرین ابتداء میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن اب ان کے مطالبات بڑھ گئے ہیں  اور وہ وہابی بادشاہتی نظام کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں معمولی مظاہروں پر بھی سعودی حکام کافی پریشان ہیں  اور سعودی حکام بھی سعودی شہریوں کو کرنل قذافی کا چہرہ دکھا رہے ہیں سعودی حکام مظاہرین کو کجلنے کے لئےدیگر ممالک سے سکیورٹی بھی مانگ رہے ہیں چونکہ سعودی سکیورٹی پر انھں اعتماد نہیں ہے۔

News Code 1272020

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 7 =