طالبان دہشت گردوں کو پھانسی کی سزا ملنی چاہیے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ کے وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ طالبان دہشت گردوں کو پھانسی کی سزا ملنی چاہیے کیونکہ جب وہ خود، بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں تو اس سے بڑا ثبوت عدالت کو اور کیا چاہیے؟

مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہکے وزیراعلٰی امیر حیدر خان ہوتی نے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئےمتنبہ کیا ہے کہ دہشت گردی ملک کی بقاء کا مسئلہ ہے اور اس سے بہتر انداز میں نمٹنے کےلیے پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ہونا پڑے گا ورنہ کوتاہی کی صورت میں تاریخ بھی ان کو معاف نہیں کرے گی۔ اس سے پہلے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختون خوا کے وزیر اطلاعات اور صوبائی ترجمان میاں افتخار حیسن نے کہا کہ دہشت گرد نہ پختون ہیں نہ پنجابی اور نہ ہی سندھی، بلوچی اور نہ پاکستانی اور نہ افغان ہیں بلکہ دہشت گردی ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب، ایمان اور زبان یا دھرتی نہیں ہوتی لہذا دہشت گرد کو دہشت گرد کے زمرے میں رکھا جائے اسے کسی سے جوڑنا یا اسے تحفظ فراہم کرنے سے مزید مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔صوبائی وزیر کے مطابق یہ بات بار بار دہرائی جاتی ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے صرف افغانستان میں ہیں حالانکہ ایسی بات نہیں بلکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی شدت پسندوں کے کئی ٹھکانے موجود ہیں اور اس سے بڑھ کر دہشت گردوں کی مضبوط پناہ گاہیں تو صوبہ پنجاب میں ہیں۔میاں افتخار کے بقول عدالتوں سے دہشت گردوں کو سزائیں نہیں مل رہیں بلکہ زیادہ تر معاملات میں ان کو عدم ثبوت کی بناء پر بری کیا جارہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردوں کو پھانسی سے کم سزا نہیں ملنی چاہیے کیونکہ جب وہ خود دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں تو اس سے بڑا ثبوت عدالت کو اور کیا چاہیے۔

News Code 1269854

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 3 =