قذافی کو امام موسی صدر کے بارے میں جواب دینا چاہیے

ایران کے سابق وزير خارجہ منوچہر متکی نے کہا ہے کہ صدر معمر قذافی اور لیبیا کی حکومت کو امام موسی صدر کے بارے میں جواب دینا چاہیے امام موسی صدر کے خاندان ، لبنانی اور ایرانی عوام کو امام موسی صدر کے بارے میں سخت تشویش لاحق ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق ایران کے سابق وزير خارجہ منوچہر متکی نے قم یونیورسٹی میں مشرق وسطی کے حالات کےبارے میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےکہا ہے کہ صدر معمر قذافی اور لیبیا کی حکومت کو امام موسی صدر کے بارے میں جواب دینا چاہیے امام موسی صدر کے خاندان ، لبنانی اور ایرانی عوام کو امام موسی صدر کے بارے میں سخت تشویش لاحق ہے۔ متکی نے کہا کہ کرنل قذافی نےامام موسی صدر کو 32 سال پہلے اغوا کیا اور قذافی اور اس کی حکومت کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے کہ انھوں نے امام موسی صدر کے ساتھ کیا کیا اور امام موسی صدر کہاں ہیں؟ متکی نے کہا کہ ایک طرف یہ خبریں ہیں کہ امام موسی صدر لیبیا کی جیل میں ہیں اور زندہ ہیں اور دوسری طرف لیبیائی حکومت کہتی ہے کہ وہ لیبیا سے نکل گئے ہیں متکی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ لیبیائی حکومت پر واضح کیا ہے کہ امام موسی صدر کا مسئلہ ایرانی اور لبنانی عوام کا مسئلہ ہے اور امام موسی صدر ایک دینی اور اسلامی رہنما ہیں لہذا ان کی زندگی اہم ہے اور اس کے بارے میۂ لیبیائی حکومت کو ٹھوس شواہد پیش کرنے چاہییں لیکن لیبیائی حکومت نے کبھی بھی اس مسئلہ کا صحیح جواب نہیں دیا متکی نے کہا کہ میں نے گذشتہ برس اپنے سفر میں لیبیا کی امریکہ کے ساتھ سازش و ساز باز اور امام موسی صدر کے مسئلہ کو اٹھایا تھا۔ واضح رہے کہ امام موسی صدر کو 32 برس پہلے لیبیا میں کرنل قذافی دعوت دیکر اغوا کرلیا تھا اور اب تک وہ لاپتہ ہیں۔

News Code 1269120

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 9 + 7 =