امام موسی صدر کے اغوا کےبارے میں بین الاقوامی اداروں سے مدد طلب

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ صالحی نے کہا ہے کہ لیبیا کے رہنما کرنل معمر قذافی نے تیس برس قبل امام موسی صدر کو دعوت پر بلا کر انھیں اغوا کرلیا تھا اور لیبیا میں حالیہ واقعات کے پیش نظر اسلامی جمہوریہ ایران نے امام موسی صدر کی تلاش کے سلسلے میں بین الاقوامی اداروں سے امداد کی درخواست کی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق امام موسی صدر کے خاندان کے افراد نے ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات کی ۔اس ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبرصالحی نے کہا ہے کہ لیبیا کے  رہنما کرنل معمر قذافی نے تیس برس قبل امام موسی صدر کو دعوت پر بلا کر انھیں اغوا کرلیا تھا اور لیبیا میں حالیہ واقعات کے پیش نظر اسلامی جمہوریہ ایران نے امام موسی صدر کی تلاش کے سلسلے میں بین الاقوامی اداروں سے امداد کی درخواست کی ہے ۔ صالحی نے کہا کہ ایرانی وزارت خارجہ امام موسی صدر کی تلاش کے سلسلے میں اپنی تمام توانائیوں سے استفادہ کرےگی انھوں نے کہا کہ امام موسی صدر کے اغوا کے معاملے میں ہم بین الاقوامی اداروں سے مدد حاصل کررہے ہیں اور ایران سنجیدگی کے ساتھ اس معاملے کا پیچھا کررہا ہے۔واضح رہے کہ اما م موسی صدر کو تیس برس پہلے کرنل قذافی نے دعوت پر بلایا تھا اور اس کے بعد آج تک امام موسی صدر کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے مبصرین کا کہنا ہے کہ لیبیا کے رہنما کرنل قذافی نے انھیں اغوا کیا اور اس کے بعد انھیں جیل میں بند کردیا تھا بعض ذرائع کے مطابق امام موسی صدر ابھی زندہ ہیں۔

News Code 1268128

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 11 =