ہندوستان کی سپریم کورٹ کابابری مسجد کے انہدام کے سلسلے میں ایل کے اڈوانی کونوٹس جاری

ہندوستان کی سپریم کورٹ نے ہندوستان کی شدت پسند تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر رہنما ایل کے اڈوانی سمیت بیس دیگر رہنماؤں کو بابری مسجد کے انہدام کے سلسلے میں نوٹس جاری کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ہندوستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہندوستان کی سپریم کورٹ نے ہندوستان کی شدت پسند تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر رہنما ایل کے اڈوانی سمیت بیس دیگر رہنماؤں کو بابری مسجد کے انہدام کے سلسلے میں نوٹس جاری کیا ہے۔عدالت عظمی نے یہ نوٹس اڈوانی اور دیگر رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ سازش کا مقدمہ خارج کرنے کے خلاف سی بی آئی کی اپیل پر جاری کیا ہے ۔

جن دیگر رہنماؤں کو نوٹس جاری کیےگئے ہیں ان میں ہندو قوم پرست جماعت شیو سینا کے رہنا بالا صاحب ٹھاکرے، مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلی اوما بھارتی، اتر پردیش کے سابق وزیر اعلی کلیان سنگھ اور سابق مرکزی وزیر مرلی منوہر جوشی شامل ہیں۔مرکزی تفتیشی ادارے " سی بی آئی "‌نے عدالت عظمی میں داخل کی گئی اپنی اپیل میں کہا ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے ر اڈوانی اور دیگر رہنماؤں کے خلاف بابری مسجد گرائے جانے کی مجرمانہ سازش کا الزام ہٹانے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ صحیح نہیں تھا۔ سی بی آئی نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان سبھی کے خلاف کارسیوکوں کو مشتعل کرنے اور مسجد گرائے جانے کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں مقدمہ چلانے کی اجازت دی جائے۔ عدالت عظمی نے سبھی افراد کو اپنا جواب دینے کے لیے ایک مہینے کا وقت دیا ہے۔

جنہیں نوٹس دیا گیا ہے ان میں وشو ہندو پریشد کے رہنما اشوک سنگل، گری راج کشور، وشنو ہری ڈالمیا، سادھوی راتمبھرا، مہنت اویدیہ ناتھ اور بی جے پی لیڈر ونے کٹیار شامل ہیں۔

 

 

News Code 1267155

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 9 + 9 =