امریکی جاسوس شہری ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنی حاصل نہیں

پاکستان کے شہر لاہور میں ایڈیشنل سیشن جج نے فیصلہ دیا ہے کہ امریکی جاسوس شہری ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنی حاصل نہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے شہر لاہور میں ایڈیشنل سیشن جج نے فیصلہ دیا ہے کہ امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنی حاصل نہیں۔

یہ بات مقتولین فیضان اور فہیم کے وکیل اسد منظور بٹ نے کوٹ لکھپت جیل کے باہر بعد میڈیا کو بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی استثنی کے حوالے سے آج طویل بحث ہوئی۔ ملزم ریمنڈ ڈیوس کا وکیل اس کے سفارتکار ہونے کے حوالے سے شواہد پیش نہ کر سکا، جس پر عدالت نے ریمنڈ ڈیوس کی طرف سے استثنی کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریمنڈ ڈیوس کیخلاف کیس کی کارروائی قانون کے مطابق کی جائے۔ اسد منظور ایڈووکیٹ کے مطابق ریمنڈ ڈیوس کے وکیل کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ چالان کی نقول اور دیگر کچھ کاغذات ابھی انہیں میسر نہیں، اس لئے ریمنڈ ڈیوس پر فرد جرم عائد نہ کی جائیگی۔ عدالت نے ریمنڈ کے وکیل کی درخواست پر کیس کی سماعت آٹھ مارچ تک ملتوی کر دی۔ سماعت کے دوران امریکی قونصل جنرل کارمیلا کانرائے بھی عدالت میں موجود تھیں۔ واضح رہے کہ  امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس نے دو پاکستانی شہریوں کو لاہور میں فائرنگ کرکےقتل  کردیا تھا جس کے بعد پولیس نے اسے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا امریکہ نےشواہد کے بغیر اپنے شہری کو سفارتکار بنانے  کی بہت کوشش کی اور امریکہ نےپاکستانی حکومت پر ریمنڈ ڈیوس کو آزاد کرنے کے لئے بہت دباؤ ڈلا لیکن پاکستانی حکومت نے استقامت کا مظاہرہ کیا اور بعد میں ثابت ہوا کہ ریمںڈ ڈیوس امریکی جاسوس ہے اور امریکی خفیہ ادارے سی آئي اے کے ساتھ منسلک ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی سفارتکار اکثر سفارتکاری کے لباس میں دیگر ممالک میں مداخلت اورجاسوسی کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے سے واضح ہوگیا ہے کہ امریکہ ، پاکستان میں عدم استحکام پیدا کررہا ہے اور پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کی حمایت بھی کررہا ہے۔

News Code 1266200

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 2 =