لیبیا میں مظاہرین نےبریقہ شہرپر پھر قبضہ کر لیا ہے

لیبیا میں مظاہرین نے لیبیا کے ڈکٹیٹر صدرکرنل معمر قدافی کی حمایتی فوج کا حملہ پسپا کرتے ہوئے مشرقی شہر بریقہ کا کنٹرول پھر سے حاصل کر لیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے الجزیرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ لیبیا میں مظاہرین نے لیبیا کے ڈکٹیٹر صدرکرنل معمر قدافی کی حمایتی فوج کا حملہ پسپا کرتے ہوئے مشرقی شہر بریقہ کا کنٹرول پھر سے حاصل کر لیا ہے۔ شہربریقہ پر دو ہفتے قبل قرافی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے قبضہ کر لیا تھا اور بدھ کو دو ہفتے بعد پہلی بار کرنل قدافی کی فوج شہر کے مشرقی حصوں میں داخل ہو گئی تھی۔ تاہم عوام نے اس پیشقدمی کو روک دیا اور شہر پر پھر سے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ لیبیا کے کئی شہروں پر عوام کا قبضہ ہوگیا ہے لیکن لیبیا کے ڈکٹیٹر اور خونخوار صدر عوام کو کچلنے کے لئے غیر انسانی اقدامات کررہے ہیں۔ادھر عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل عمرو موسیٰ نے لبیا کی صورتِ حال کو تباہ کن قرار دیا ہے جو قابلِ قبول نہیں ہے۔

عرب وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے، عمرو موسیٰ نے کہا کہ لبیا کے عوام کی آزادی کی خواہش کچلنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ عراقی وزیرِ خارجہ ہوشیار زبیاری نے لبیا پر زور دیا کہ وہ اپنے لوگوں کے حقوق کا احترام کرنے کے لیے اقدامات کرے قدافی کی طرف دار فوج نے عجدیبیہ کے شہر کے قریب بمباری بھی کی۔ ادھر ذرائع کے مطابق قذافی کی حامی فوج نے کئي شہروں پر بمباری بھی کی۔

News Code 1266073

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 11 =