ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کی اسمبلی میں ہنگامہ

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کی اسمبلی میں نوجوانوں کی گرفتاریوں کے معاملہ پر بجٹ اجلاس کے دوران حزب اختلاف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے منگل کو شدید احتجاج کے بعد واک آؤٹ کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے کشمیر ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کی اسمبلی میں نوجوانوں کی گرفتاریوں کے معاملہ پر بجٹ اجلاس کے دوران حزب اختلاف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے منگل کو شدید احتجاج کے بعد واک آؤٹ کیا ہے۔ پچھلے سال کی غیر مسلح شورش کے بعد نوجوانوں پر پولیس کا کریک ڈاؤن جاری ہے اور مسلسل گرفتاریوں کے حوالے سے سیاسی و عوامی حلقوں میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔

جموں میں ہو رہے بجٹ اجلاس میں منگل کی صبح وقفہ سوالات شروع ہوتے ہی پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے وزیراعلیٰ پر الزام عائد کیا کہ وہ نابالغ لڑکوں کو قید کرنے کی پالیسی کو امن قائم کرنے کی کوشش کہتے ہیں اور ریاست کے اصل مسائل پر توجہ دینے کی بجائے زیادہ تر وقت سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ٹوِئٹر‘ پر صرف کرتے ہیں۔

محبوبہ کی الزام تراشی کے بعد ان کے ساتھیوں نے نعرے بازی شروع کی جس پر سپیکر نے انہیں ایوان سےباہر نکالنے کا حکم دیا اور اس دوران ہاتھا پائی میں پی ڈی پی کے ایک ممبر زخمی ہوگئے۔ محبوبہ مفتی نے سپیکر محمد اکبر لون کو "کشمیر کا قذافی"  قرار دیا۔ اس کے بعد پی ڈی پی کے سبھی اکیس ممبران نے نعرے بازی شروع کر دی۔ اِدھر وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ کم عمر لڑکوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ تاہم علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے مسٹر عبداللہ کے بیان کو نازی دور کے پروپیگنڈا سے تعبیر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ چار ہزار لڑکوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

News Code 1264688

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 12 =