لیبیا میں کرنل قذافی کو اقتدار سے الگ کرنے کے لئے عوامی مظاہرے جاری

لیبیا کے کئی شہروں میں مظاہرین اورحکومتی شرپسندوں میں جھڑپیں جاری ہیں،مصراتہ میں مظاہرین نے فوجی اڈے اورائیرپورٹ پرقبضہ کرلیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے الجزيرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ لیبیا کے کئی شہروں میں مظاہرین اورحکومتی شرپسندوں میں جھڑپیں جاری ہیں،مصراتہ میں مظاہرین نے فوجی اڈے اورائیرپورٹ پرقبضہ کرلیا ہے۔ مصراتہ میں باغیوں نے مقامی ریڈیواسٹیشن اورائیرپورٹ پرکنٹرول حاصل کرلیا۔ مظاہرین نےاسلحہ ڈبوؤں سمیت فوجی اڈے کے بڑے حصے پربھی قبضہ کرلیا ہے۔ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے امریکی صدرباراک اوبامہ سے ملاقات کی ہےجس کے بعد امریکی سفیرسوزن رائس نے میڈیا کوبریفننگ میں بتایا کہ ملاقات میں لیبیاکے خلاف عالمی کوششوں پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ان کاکہناتھا سلامتی کونسل نے لیبیا کی صورت حال پرپہلی مرتبہ عالمی فوجداری عدالت سے رجوع کیا ہے۔ اب معمر قذافی کو اقتدار چھوڑنا پڑے گا۔ امریکی اخبار کے مطابق امریکا نے لیبیا کے30 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کردیے ہیں۔عرب ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیاہے کہامریکی فوج نے بحری بیڑوں کو لیبیا کی سمندری حدودکے قریب ہونے کا حکم دے دیاہے بعض ذرائع کے مطابق امریکہ نے لیبیا کو محاصرے میں لےرکھا ہے امریکہ پہلے عرب ڈکٹیٹروں کی حمایت کرتا رہا اور ان کے جرائم میں برابر کا شریک رہا لیکن اب عوامی غیض و غضب کو دیکھ کر اس نے عرب ڈکٹیٹروں کو تنہا چھوڑ دیا ہے اور عرب عوام کے انقلاب کو اغوا کرنے اور اصلی سمت سے منحرف کرنے کی تلاش و کوشش کررہا ہے اور عرب ممالک پر دوبارہ ایسے افراد کو مسلط کرنے کی کوشش کررہا ہے جو اسرائیل کے حامی اور ہمنوا ہوں۔

News Code 1264609

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 2 =