24 فروری، 2026، 3:47 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

مزاحمت، مذاکرات اور طاقت کا توازن: ایران نے امریکی دباؤ کو مسترد کردیا

مزاحمت، مذاکرات اور طاقت کا توازن: ایران نے امریکی دباؤ کو مسترد کردیا

واشنگٹن کے بڑھتے ہوئے فوجی اور سیاسی دباؤ کے باوجود تہران نے واضح کردیا ہے کہ وہ کسی صورت سرنڈر نہیں کرے گا اور مذاکرات کو اپنی شرائط اور قومی مفادات کے مطابق آگے بڑھائے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: مشرق وسطی کی بدلتی صورت حال اور ایران۔امریکہ جوہری مذاکرات عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ خلیج فارس کی طرف امریکی بحری بیڑوں کی حرکت اور ایران کے جوابی بیانات اور اقدامات سے خطے پر جنگ کے سایے منڈلارہے ہیں۔ گذشتہ دنوں امریکی خصوصی ایلچی وٹکاف نے انکشاف کیا کہ تمام تر دباو اور دھمکیوں کے باوجود ایران مزاحمت کررہا ہے جس سے صدر ٹرمپ تجسس کا شکار ہورہے ہیں۔

عالمی ذرائع ابلاغ میں اس سوال کا جائزہ لیا گیا ہے کہ ایران شدید امریکی دباؤ کے باوجود پسپائی کیوں اختیار نہیں کر رہا؟

عرب چینل الجزیرہ کے مطابق، خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور سخت بیانات کے باوجود تہران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں۔ ایرانی حکام ماضی کے تجربات کو پیشِ نظر رکھے ہوئے ہیں جہاں سابقہ مذاکرات کے بعد اعتماد کو ٹھیس پہنچی اور حالات کشیدہ ہوئے۔

الجزیرہ نے اپنے تجزیے میں کہا کہ ایران ایک طرف اپنے دفاعی اور ڈیٹرنس نظام کو نمایاں کر رہا ہے تو دوسری جانب سفارتی عمل بھی غیر معمولی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ مسودوں کا تبادلہ جاری ہے اور مذاکرات کے نئے دور کے لیے جنیوا کا ذکر سامنے آیا ہے۔ ایران کا مؤقف یہ ہے کہ مذاکرات بالواسطہ ہوں، گفتگو صرف جوہری پروگرام تک محدود رہے اور اس کے بدلے میں اقتصادی مراعات پر بات ہوسکتی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ عمل کسی حتمی معاہدے پر منتج ہوگا یا خطے کو مزید کشیدگی کی طرف لے جائے گا۔

الجزیرہ کے مطابق موجودہ صورتحال طاقت کے توازن، سفارتی تدبر اور اسٹریٹجک صبر کی ایک پیچیدہ آزمائش بن چکی ہے جس کے نتائج نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ پورے خطے پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

امریکی دھمکیوں پر رہبر معظم کا دوٹوک جواب

اس معاملے پر یہ سوال بار بار اٹھایا جا رہا ہے کہ ایران آخر کیوں نہیں جھکتا؟ تہران اپنی مزاحمت پر فخر کرتا ہے، لیکن کیا اسے جنگ کا خوف نہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے اور بیانات میں سختی لا رہا ہے؟ اسی تناظر میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے واضح الفاظ میں کہا کہ طیارہ بردار بحری جہاز یقیناً خطرناک ہوتے ہیں، لیکن ان سے بھی زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہیں جو انہیں ڈبو سکتے ہیں۔

ان کا اشارہ ایران کے اُن دفاعی ہتھیاروں کی طرف تھا جن کے بارے میں زیادہ تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں، تاہم بعض ہتھیار گزشتہ جون میں ہونے والی بارہ روزہ جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے دفاعی نظام کو عبور کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

ایرانی حکام کہتے ہیں کہ وہ ماضی کے مذاکرات کو نہیں بھولے۔ ان کے مطابق بارہ روزہ جنگ اُس وقت شروع ہوئی جب واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات جاری تھے اور مسقط میں چھٹے دور کی بات چیت سے صرف دو دن پہلے حالات بگڑ گئے تھے۔ ایران اس دوران نئی عسکری ٹیکنالوجی متعارف کرا رہا ہے، افواج کو مکمل تیاری کی حالت میں رکھے ہوئے ہے اور اتحادیوں اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ دفاعی مشاورت بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

مذاکرات کو جوہری پروگرام تک محدود رکھنے پر ایران کا اصرار

امریکہ کا الزام ہے کہ ایران مذاکرات میں سنجیدہ نہیں اور جان بوجھ کر عمل کو طول دے رہا ہے، لیکن تہران ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران سفارتی عمل کو سنجیدگی اور عزم کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔ حالیہ مذاکرات میں غیر معمولی پیش رفت بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ دوسرے دور میں دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ تیسرے مرحلے میں ممکنہ معاہدے کے مسودے پیش کیے جائیں گے۔ عمان کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ اگلا دور جنیوا میں متوقع ہے۔

ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ عارضی معاہدے کی بات بے بنیاد ہے اور ایران اپنا مسودہ مقررہ وقت سے پہلے عمانی ثالث کو پیش کرے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی خواہش کے برخلاف ایران کے میزائل پروگرام یا خطے میں اس کے اتحادیوں کا معاملہ ایجنڈے میں شامل نہیں ہے، اور تہران کسی بھی غیر جوہری موضوع پر گفتگو سے گریز کر رہا ہے۔

اس دوران بعض اقتصادی مراعات کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے رکن اور نائب وزیر خارجہ حمید قنبری نے کہا کہ 2015 کے جوہری معاہدے میں امریکہ کو معاشی فائدہ نہیں ملا تھا، اس لیے اس بار اگر معاہدہ طے پاتا ہے تو اسے معاشی طور پر پائیدار ہونا چاہیے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ توانائی، تیل و گیس، معدنی سرمایہ کاری اور شہری ترقی کے بعض شعبے ممکنہ تعاون کا حصہ بن سکتے ہیں۔

ایران بالواسطہ مذاکرات پر کیوں اصرار کرتا ہے؟

ایران اب بھی امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے بجائے بالواسطہ بات چیت پر زور دے رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے مسقط میں پہلے دور کے بعد دونوں وفود کی مختصر ملاقات کو محض رسمی خیرسگالی قرار دیا۔ تہران کا خیال ہے کہ براہ راست مذاکرات امریکہ کو زیادہ اثر و رسوخ دے سکتے ہیں، اس لیے ایسی صورت سے گریز ضروری ہے۔ بالواسطہ مذاکرات ایران کو سیاسی گنجائش فراہم کرتے ہیں اور اسے موقع دیتے ہیں کہ وہ براہ راست دباؤ میں آئے بغیر امریکی مؤقف کو پرکھ سکے۔

مجموعی طور پر ایران ثالثوں کے ذریعے بات چیت کو ترجیح دیتا ہے، خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں دونوں ممالک کے درمیان گہرا عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں سفارت کاری اور عسکری تیاری ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، اور آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ یہ عمل کسی معاہدے تک پہنچتا ہے یا کشیدگی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتا ہے۔

News ID 1938242

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha