ہندوستان میں کسانوں کے بعد ڈیفنس ملازمین کا ہڑتال کرنے کا اعلان

ہندوستان میں مودی سرکار کی نجکاری پالیسی کے خلاف ڈیفنس ملازمین نے ہڑتال کا اعلان کردیا ہے جن میں وہ تنظیمیں بھی شامل ہیں جو بنیادی طور پر حکمران جماعت بی جے پی، کانگریس اوربائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی ذیلی تنظیمیں ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ہندوستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہندوستان میں مودی سرکار کی نجکاری پالیسی کے خلاف ڈیفنس ملازمین نے ہڑتال کا اعلان کردیا ہے جن میں وہ تنظیمیں بھی شامل ہیں جو بنیادی طور پر حکمران جماعت بی جے پی، کانگریس اوربائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی ذیلی تنظیمیں ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کسانوں کے بعد ڈیفنس ملازمین نے 23 تا 25 جنوری 2019 کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے جس میں اندازاً چارلاکھ افراد کی شرکت متوقع ہے۔ ہڑتال کا اعلان ڈیفنس سول ورکرز کی تین رجسٹرڈ یونینوں نے کیا ہے۔بھارت میں ڈیفنس فیڈریشن نے بھی اس سے قبل ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا مگربعض حکومتی یقین دہانیوں کے نتیجے میں اعلان کو واپس لے لیا گیا تھا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ملازمین کا مؤقف ہے کہ جس طرح مودی سرکارڈیفنس سیکٹر کو نجی کمپنیوں کے سپرد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اس کی وجہ سے تمام ملازمین کو اپنی ملازمتیں شدید خطرات سے دوچار نظرآرہی ہیں۔بھارتی اقتصادی ماہرین یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ملک کی 41 آرڈی ننس فیکٹریوں میں سے 21 بدترین معاشی بحران کا شکار ہیں۔بھارت میں ہڑتال کی کال دینے والی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ مودی سرکار نے " میک ان انڈیا ان ڈیفنس"  کے خوبصورت نعرے پر بھارت کی دفاعی صلاحیت کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق مودی سرکار براہ راست اس صورتحال کی  ذمہ دار ہے۔ بھارت کے دارالحکومت دہلی میں 29 نومبر کو ہزاروں کسانوں نے مودی سرکار کے خلاف بھرپور احتجاج کیا اور شدید نعرے بازی کی تھی۔سیاسی مبصرین کے مطابق مودی سرکار فی الحال اصل عوامی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے شدت پسندوں کو جذباتی طور پر مشتعل کرکے اپنا ووٹ بینک بڑھانے کی حکمت عملی پر گامزن ہے جس کی وجہ سے وہاں نہ صرف مذہبی اقلیتیں خوف و ہراس کا شکار ہیں بلکہ پرامن اور سنجیدہ ہندو بھی انتہائی خوفزدہ ہیں کیونکہ  کسی بھی فساد کی صورت میں نقصان ان کے شہر کا ہوتا ہے۔

News Code 1886251

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 5 =