ایوانکا ٹرمپ  کا نجی ای میل اکاؤنٹ کو استعمال کرنے کا دفاع

امریکی صدر کی بیٹی اور مشیر ایوانکا ٹرمپ نے نجی ای میل اکاؤنٹ کو استعمال کرنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا موازنہ سابق امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ ہلیری کلنٹن کے نجی ای میل سرور سے نہیں کیا جاسکتا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کی بیٹی اور مشیر ایوانکا ٹرمپ نے اے بی سی نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری تمام ای میل موجود اور محفوظ ہیں اور ان میں سے کسی کو ڈیلیٹ نہیں کیا گیا۔ ایوانکا ٹرمپ نے نجی ای میل اکاؤنٹ کو استعمال کرنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا موازنہ سابق امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ ہلیری کلنٹن کے نجی ای میل سرور سے نہیں کیا جاسکتا۔ ایوانکا ٹرمپ نے کہا کہ ذاتی ای میل اکاؤنٹ کے استعمال میں کوئی پابندی نہیں ہے، حتیٰ کہ ہمیں یہ ہدایات ہیں کہ اگر ہمیں اپنے ذاتی اکاؤنٹ پر حکومتی امور سے متعلق کوئی ای میل موصول ہوتی ہے تو آپ اسے اپنے حکومتی اکاؤنٹ پر فارورڈ کریں تاکہ وہ محفوظ رہ سکے۔ واضح رہے کہ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رواں ماہ رپورٹ کیا تھا کہ ایوانکا ٹرمپ نے گزشتہ برس اپنے ذاتی ای میل اکاؤنٹ سے وائٹ ہاؤس کے ساتھیوں، کابینہ اراکین اور اپنے معاون کو حکومتی کاموں سے متعلق سیکڑوں ای میل کیں، جن میں سے متعدد پبلک ریکارڈ قوانین کے خلاف ہے۔ ایوانکا ٹرمپ نے کہا کہ ذاتی ای میل اکاؤنٹ کے استعمال میں کوئی پابندی نہیں ہے، حتیٰ کہ ہمیں یہ ہدایات ہیں کہ اگر ہمیں اپنے ذاتی اکاؤنٹ پر حکومتی امور سے متعلق کوئی ای میل موصول ہوتی ہے تو آپ اسے اپنے حکومتی اکاؤنٹ پر فارورڈ کریں تاکہ وہ محفوظ رہ سکے۔ یاد رہے کہ ہلیری کلنٹن نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں بطور اعلیٰ امریکی سفیر نیویارک کے علاقے چھاپاقوا میں اپنے گھر میں نجی سرور سے منسلک ذاتی ای میل اکاؤنٹ کا استعمال کیا تھا۔ اس حوالے سے ایف بی آئی کو تحقیقات میں کچھ ای میلز سے اہم معلومات ملی تھیں جو انہوں نے نجی سرور سے بھیجیں یا موصول کی گئی تھیں۔ ہلیری کلنٹن کی جانب سے نجی ای میل سرور کے استعمال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران امریکی صدر نے انہیں ’بے ایمان ہلیری‘ سے پکارا اور متعدد مرتبہ یہ تک کہا کہ ہلیری کلنٹن کو جیل میں ہونا چاہیے۔

News Code 1886036

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 3 =