انڈونیشیا میں سوشل میڈیا پر بچے فروخت کرنے کے الزام میں 4 افراد گرفتار

انڈونیشیا میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر بچوں کو فروخت کرنے والی ماں سمیت 4 ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بی بی سی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ انڈونیشیا میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر بچوں کو فروخت کرنے والی ماں سمیت 4 ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا۔ انڈونیشیا میں پولیس نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 5 افراد کو گرفتار کرلیا۔ یہ افراد سوشل میڈیا کی سائٹ انسٹا گرام کے ذریعے بچوں کو فروخت کیا کرتے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد میں 22 سالہ ماں بھی شامل ہے جب کہ ایک 29 سالہ شخص بھی ہے جو بروکر کا کردار ادا کرتا تھا اس کے علاوہ بالی کے علاقے سے ایک مڈ وائف اور ایک خریدار کو بھی حراست میں لیا گیا۔

پولیس نے کارروائی کا آغاز انسٹا گرام کے ایک اکاؤنٹ پر بچے کی خرید و فروخت کی پوسٹوں پر کیا تھا۔ اس اکاؤنٹ کے ذریعے خواتین کو زچگی سے متعلق معلومات اور سہولیات پیش کی جاتی تھیں جب کہ بے اولاد جوڑوں کو بچہ گود لینے کے لیے راغب کیا جاتا تھا۔ پولیس افسر کا کہنا ہے کہ انسٹا گرام کے اس اکاؤنٹ پر 15 ستمبر کو بچے کی تصویر معلومات کے ساتھ شائع کی گئی تھیں جب کہ بے اولاد جوڑوں کو بچہ گود لینے کے لیے ایک رابطہ نمبر بھی دیا گیا تھا۔

تحقیقات سے ثابت ہوا کہ بچے کو گود لینے کے معاملے میں پیسوں کا بھی لین دین کیا گیا جو کہ غیر قانونی عمل ہے۔ پیسوں کی ترسیل سے متعلق تمام شواہد ملنے کے بعد پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

یاد رہے کہ یونیسیف نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ انڈونیشیا میں سالانہ 1 لاکھ سے زائد بچوں کی خرید و فروخت کی جاتی ہے جن میں اکثریت کو بیرون ملک اسمگل کیا جاتا ہے۔

News Code 1884721

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 9 =