ملزم نواز شریف کو مجموعی طور پر 11 سال قید با مشقت اور 132 کروڑ روپیہ جرمانہ کی سزا

خبر آئی ڈی: 4340391 -
پاکستان کی احتساب عدالت نے مسلم لیگ(ن) کے قائد سابق وزیراعظم ملزم نوازشریف کےخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنا تے ہوئے مجموعی طور پر ملزم نواز شریف کو 11 سال قید با مشقت کی سزا ، 8 ملین پائونڈ (132کروڑ) جرمانہ، مریم نواز کو مجموعی طور پر 8؍سال قید بامشقت اور دوملین پائونڈ (33کروڑ) جرمانہ عائد کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے جنگ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کی احتساب عدالت نے مسلم لیگ(ن) کے قائد سابق وزیراعظم ملزم نوازشریف کےخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنا تے ہوئے مجموعی طور پر ملزم نواز شریف کو 11 سال قید با مشقت کی سزا ، 8 ملین پائونڈ (132کروڑ) جرمانہ، مریم نواز کو مجموعی طور پر 8؍سال قید بامشقت اور دوملین پائونڈ (33کروڑ) جرمانہ عائد کیا ہے۔ ملزم نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر کو جعلی ڈیڈ میں گواہی دینے کے جرم میں صرف ایک سال قید کی سزا سنائی ہے ،انہیں جرمانے کی سزانہیں سنائی گئی، لندن میں واقع نواز شریف فیملی کے لندن فلیٹس بحق سرکار ضبط کرنے ، نواز شریف اسکی بیٹی اور دامادکو آئندہ دس سال کیلئے نااہل قراردیدیا گیا ہے۔ احتساب عدالت کے فاضل جج محمد بشیر نے فریقین کےوکلا کیساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ سنادیا ،بعد میں میڈیا کو اندر جانے کی اجازت دی گئی اور وکلا نے میڈیا کو عدالتی فیصلے سے آگاہ کیا۔ فاضل عدالت نے 174 صفحات پر مشتمل فیصلہ سنایا ۔حسین اورحسن نوازپیش نہیں ہوئے، ان سے متعلق سزانہیں سنائی گئی تاہم عدالتی فیصلے کے بعد حسین نواز اور حسن نواز کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے دوبارہ دائمی ورانٹ جاری کردئیے ہیں۔ملزمان کسی بینک سے مالی فائدہ حاصل نہیں کر سکیں گے ، عدالت نے ملزمان کو فرد جرم میں نیب آرڈیننس کی شق 9 اے(4) کے تحت لگائے گئےکرپشن کے الزام سے بری کر دیا ،نواز شریف کو آمدن سے زائد اور بے نامی دار کے نام سے جائیداد بنانے پر نیب آرڈی نینس کی سیکشن 9A-5 کے تحت 10 ؍سال قید اور 8 ؍ملین پائونڈ جرمانہ جبکہ والد کے اثاثے چھپانے میں معاونت کے الزام میں مریم نواز کو 7 ؍سال قید اور 2 ؍ملین پائونڈ جرمانہ کیاگیا ہے۔ نیب آرڈیننس کی سیکشن 9 اے فائیو زیرکفالت افراد یا بے نامی دار کے نام جائیداد بنانے سے متعلق ہے۔نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کو مریم نواز کی جعلی ٹرسٹ ڈیڈ بنانے اور معاونت میں تینوں کو ایک ایک سال قید ا کی سزا سنائی ہے ، دونوں سزائیں اکھٹی شروع ہونگی۔ تحریری فیصلے کے مطابق حسین نواز نے خود تسلیم کیا کہ وہ لندن فلیٹس کے مالک ہیں ۔ فیصلے میں جے آئی ٹی رپورٹ ، سپریم کورٹ کے فیصلوں ، حسین نوازکے ٹی وی انٹرویو،سابق وزیراعظم نواز شریف کے قومی اسمبلی اور قوم سے خطاب کا حوالہ بھی دیا گیا۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ مریم نواز اپنے والد نواز شریف کی جائیداد چھپانے کیلئے آلہ کار بنیں، مریم نواز کی جانب سے جمع کرائی گئی ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ثابت ہوئی ہے اور مریم نواز والد کے جرم میں معاون ثابت ہوئی ہیں، مریم نواز نے جرم کے ارتکاب میں اپنے والد کی معاونت کی۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے قطری خطوط کے ذریعے لندن جائیداد کا کبھی پہلے ذکر نہیں کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قطری خطوط سنی سنائی بات سے زیادہ کچھ نہیں جبکہ اپارٹمنٹس سے متعلق کوئی معاون دستاویز یا براہ راست ثبوت نہیں دیا گیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 1993ء میں مریم نواز کی عمر 20 سال، حسین نواز 17سال اور حسن نواز 15 سال کے تھے ،اس وقت تینوں ملزمان کم عمر تھے اور اپارٹمنٹس خریدنے کے وسائل انکے پاس نہیں تھے۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عام طور پر بچے والدین کے ہی زیر کفالت ہوتے ہیں ۔ سابق وزیراعظم نواز شریف یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے بچوں کو رقم نہیں دی۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ حسن نواز کے انٹرویو کے مطابق بھی ایون فیلڈ اپارٹمنٹس انکے زیر استعمال رہے ۔ فیصلے کے مطابق کیپٹن صفدر نے بھی جرم کے ارتکاب میں معاونت کی ، فیصلے میں نواز شریف کو شیڈول 2 کے تحت مزید ایک سال قید کی سزا دی گئی ۔ اس طرح نواز شریف کو مجموعی طور پر 11 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ مریم نواز کی سات سال اور ایک سال اضافی سزائیں جبکہ نواز شریف کی دس سال اور ایک سال اضافی سزائیں ایک ساتھ شروع ہونگی۔عدالتی فیصلے کے مطابق نواز شریف اور مریم نواز کو تفتیشی ایجنسی سے تعاون نہ کرنے پر ایک ایک سال قید کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان پر کرپشن کا الزام ثابت نہیں کر سکا تاہم بے نامی دار اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ثابت ہو ا ہے ۔فیصلے میں کہاگیاہے کہ ملزمان 10سال تک کوئی عوامی عہدہ نہیں رکھ سکتے ۔ تمام مجرمان کو اپیل میں جانے سے پہلے سرنڈر کرنا ہو گا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

1 + 10 =