معاشی اور اقتصادی جنگ میں جارحانہ انداز اختیار کرنا چاہیے/ جنرل سلیمانی کے خط کی تعریف

خبر آئی ڈی: 4340051 -
اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں خطیب جمعہ نے اقتصادی اور معاشی جنگ میں جارحانہ انداز اختیار کرنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی جنگ میں ایرانی حکام کو جارحانہ پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ آیت اللہ امامی کاشانی کی امامت میںم نعقد ہوئی جس میں لاکھوں مؤمنین نے شرکت کی۔ خطیب جمعہ نے نماز جمعہ کے خطبوں میں  اقتصادی اور معاشی جنگ میں جارحانہ انداز اختیار کرنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی جنگ میں ایرانی حکام کو جارحانہ پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

خطیب جمعہ نے مسلمانوں کی صفوں میں اختلاف ڈالنے کی صہیونی اور امریکی سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رہبر معظم انقلاب اسلامی کے فرمان کے مطابق ہمیں ہمیشہ عوام کے ساتھ رہنا چاہیے اور  ہمیں  دشمن کی طرف سے عوام اور حکام کے درمیان اختلاف ایجاد کرنے کی کوششوں ناکام بنانا چاہیے۔

خطیب جمعہ نےحضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی طرف سے دشمن کی شناخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے چھٹے امام نے دشمن کو اچھی طرح پہچان لیا تھا اور اسی لئے انھوں نے تمام مسلمانوں کو ایک خیمہ میں جمع کرلیا تھا۔ خطیب جمعہ نے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے والوں سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے والے نہ شیعہ ہیں اور نہ سنی ہیں بلکہ یہ لوگ امریکی اور برطانوی ایجنٹ ہیں۔

خطیب جمعہ نے صدر حسن روحانی کے نام جنرل قاسم سلیمانی کے خط کی بھی تعریف کی جس میں جنرل قاسم سلیمانی نے سوئیز لینڈ میں  ایران کے صدر حسن روحانی کے اسرائیلی حکومت کے خلاف بےباک بیان کی تعریف کی تھی ایرانی صدر نے سوئیزرلینڈ میں اپنے بیان میں اسرائيلی حکومت  کو ناجائز اور جعلی قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکہ نے ایران کے تیل کی فروخت میں خلل ایجاد کرنے کی کوشش کی تو پھر  آبنائے ہرمز سے کسی کا بھی تیل فروخت نہیں ہوسکےگا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

3 + 14 =