اسلامی ممالک کواختلافات دور کرنے اور باہمی اتحاد پر توجہ مبذول کرنی چاہیے

خبر آئی ڈی: 4201276 -
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے 13 ویں پارلیمانی سربراہی اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی ممالک کو اختلافات دور کرنے اور باہمی اتحاد پر توجہ مبذول کرنی چاہیے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے 13 ویں  پارلیمانی سربراہی اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی ممالک کو اختلافات  دور کرنے اور باہمی اتحاد پر توجہ مبذول کرنی چاہیے۔

صدر حسن روحانی نے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے 13 ویں  پارلیمانی سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک حساس دور سے گزر رہے ہیں۔ اسلامی ممالک کو بڑی مشکلات اور بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے اور ہم ان مشکلات کو باہمی اتحاد اور مشارکت کے ساتھ حل کرسکتے ہیں۔

صدر حسن روحانی نے اسلامی ممالک کی پارلیمانز کودنیائے اسلام میں  اتحاد اور یکجہتی  کے قیام کے سلسلے میں اہم قراردیتے ہوئے کہا کہ عالمی سامراجی طاقتیں در حقیقت اسلامی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرکے اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کررہی ہیں۔ امریکہ کو کسی بھی اسلامی ملک سے کوئی خاص محبت اور ہمدردی نہیں ہے بلکہ وہ اپنے مفادات کی خاطر اسلامی ممالک کو دھوکہ اور فریب دیکر اپنے زیر نظر رکھنا چاہتا ہے۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ اسلامی ممالک کو اپنی اندرونی مشکلات کو حل کرنے کے سلسلے میں اپنی اندرونی صلاحیتوں اور توانائيوں سے استفادہ کرنا چاہیے۔اغیار اور سامراجی طاقتوں کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ عالمی سامراجی طاقتیں ہمارے مسائل و مشکلات کو حل کرنے کے بجائے ہمارے لئے مشکلات اور مسائل پیدا کرتی ہیں۔

صدر حسن روحانی نے مسئلہ فلسطین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے سلسلے میں ہمیں امریکہ سے توقع نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ امریکہ ابتدا ہی سے اسرائيل کا حامی اور مددگار اور فلسطینیوں کا دشمن ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کے موجودہ صدر نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے فلسطین کے بارے میں امریکہ کے بھیانک اور مکروہ چہرے کو نمایاں کردیا ہے۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات طیبہ ہمارے لئے بہترین نمونہ عمل ہے ہم نبی رحمت (ص) کی سیرت پر عمل کرکے دنیا کو انسانیت، جمہوریت اور اخلاق کا درس دے سکتے ہیں اسلام کے پاس علم و اخلاق کا بہترین خزانہ ہے جسے ہم دنیا کے سامنے پیش کرسکتے ہیں مغربی ثقافت کے بجائے دنیا میں اسلامی تہذیب اور ثقافت کو فروغ دینا چاہیے اور دہشت گردوں کو اسلام کے درخشاں اور تابناک چءرے کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے انھوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کے سروں عالمی سامراجی طاقتوں کا ہاتھ ہےاور ہمیں امریکہ کے شوم منصوبوں سے باخبـر اور آگاہ رہنا چاہیے ۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

1 + 15 =