امریکہ کے ساتھ گفتگو بے معنی ہے/ ٹرمپ کی فکر منفی ، غیر منطقی ،غیر سنجیدہ اور غیر مفید ہے

خبر آئی ڈی: 4092383 -
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکی ٹی وی چینل این بی سی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی سطح پر تمام مثبت راہوں کو نابود کرنے پر کمر بستہ ہیں ٹرمپ کی فکر منفی ، غیر سنجیدہ اور غیر منطقی ہے امریکہ کے ساتھ گفتگو بے سود اور بے معنی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق  اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکی ٹی وی چینل این بی سی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی سطح پر تمام مثبت راہوں کو نابود کرنے پر کمر بستہ ہیں ٹرمپ کی فکر منفی ، غیر سنجیدہ اور غیر منطقی ہے امریکہ کے ساتھ گفتگو بے سود اور بے معنی ہے۔ صدر حسن روحانی نے مشترکہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے ممکنہ طور پرخارج ہونے پر مبنی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور گروپ 1+5 کے درمیان مشترکہ ایٹمی معاہدہ بین الاقوامی سطح پر تعمیری تعاون کا اہم ثبوت ہے اور مشترکہ ایٹمی معاہدے سے ثابت ہوگيا ہے کہ دنیا کو درپیش اہم مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعہ ممکن ہے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر منطقی اور غیر سنجیدہ رفتار کی بنا پر تمام مثبت راہیں نابود ہوسکتی ہیں اور امریکی صدر کی فکر عالمی امن کے لئے خطرہ بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات برقرار کرنے کے لئے مثبت فضا اور اعتماد کی ضرورت ہے۔ اور امریکی حکام اعتماد کی تمام راہوں کو نابود کرنے کی تلاش و کوشش میں ہیں جبکہ امریکی قوم اور ایرانی قوم باہمی تعاون کی بنیاد پر ایکدوسرے کے تاریخی ،ثقافتی اور علمی آثار سے استفادہ کرسکتے ہیں۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکہ کے علاوہ دوسرے ممالک یعنی چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے مشترکہ ایٹمی معاہدے پر باقی  رہنے پر تاکید کی ہے اور وہ امریکہ کو بھی اس معاہدے پر باقی رکھنے کی تلاش و کوشش کررہے ہیں لیکن اگر امریکہ اس معاہدے سے خارج ہوگيا تو اس سے ایران کو کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ عالمی برادری کا اعتماد امریکہ سے اٹھ جائے گا۔

صدر حسن روحانی نےکہا کہ ایران کسی بھی ملک کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں کی پیداوار کے خلاف ہے لیکن ملکی دفاع کے سلسلے میں روایتی ہتھیاروں پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائےگا۔

صدر حسن روحانی نے ایران اور شمالی کوریا کو یکساں قراردینے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور شمالی کوریا کا مسئلہ مختلف ہے لہذا دونوں ممالک کو یکساں قراردینا غلط اور نادرست بات ہے شمالی کوریا این پی ٹی کا رکن نہیں ہے جبکہ ایران این پی ٹی کا رکن ملک ہے اور ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیاں بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی نگرانی میں جاری ہیں ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے جس کی بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی بارہا تائيد اور تصدیق کرچکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی حکام جھوٹ بولنے اور اس پر اصرار کرنےمیں ماہر ہیں اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے امریکی حکام نے اپنی قوم کو دنیا میں بدنام کردیا ہے اسلام میں جھوٹ بولنا اور دوسروں پرجھوٹے الزامات عائد کرنا گناہ سمجھا جاتا ہے جبکہ امریکہ کی فائل بھیانک جرائم اور سنگین گناہوں سے مملو ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

3 + 14 =