‎‎پیغمبر اسلام (ص) نے حضرت علی (ع) کو اپنا دنیا اورآخرت میں بھائی قرار دیا

خبر آئی ڈی: 4005937 -
پیغمبر اسلام (ص) نےجب مہاجرین اور انصار میں بھائی چارہ قائم کیا تو اس وقت آنحضور(ص) نے حضرت علی (ع) کواپنا دنیا اورآخرت میں بھائی قرار دیا اور سب سے آخر میں غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس کا میں مولا اور سرپرست ہوں اس کے علی مولا اور سرپرست ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (ع) رجب المرجب کی تیرہ تاریخ کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام  ابو طالب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد ہے۔ آپ کی پیدائش خانہ کعبہ کے اندر 13  رجب بروز جمعہ  30  عام الفیل کو ہوئی۔ حضرت علی، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں بچپن میں پیغمبر کے گھر آئے اور وہیں پرورش پائی۔ پیغمبر (ص)  کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی ۔  حضرت علی بن ابی طالب (ع)  کی امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول کریم (ص) ان کی بہت عزت کرتے تھے او اپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے۔ جتنے مناقب علی بن ابی طالب کے بارے میں احادیث نبوی میں موجود ہیں، کسی اور صحابی رسول کے بارے میں نہیں ملتے۔ مثلا آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہ الفاظ " علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں" ۔کبھی یہ کہا کہ " میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔"  کبھی یہ کہا " تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے" ۔ کبھی یہ کہا " علی کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی" ۔ کبھی یہ کہا: "علی مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے" ۔ کبھی یہ کہا کہ " علی (ع) خدا اور رسول خدا کے سب سے زیادہ محبوب ہیں" ۔ یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں حضرت علی علیہ اسلام  کو نفسِ رسول کا خطاب ملا۔ عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے دروازے بند ہوئے تو حضرت علی علیہ السلام کا دروازہ کھلا رکھا گیا۔ جب مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو حضرت علی (ع)  کو پیغمبر نے اپنا دنیا واخرت میں بھائی قرار دیا اور سب سے آخر میں غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس کا میں مولا اور سرپرست ہوں اس کے علی بھی مولا ہیں۔

حضرت علی بن ابی طالب (ع) کو 19 رمضان سن 40 ہجری  کو مسجد کوفہ میں عبدالرحمن بن ملجم مرادی نے صبح کی نماز میں سجدہ کی حالت میں زہر آلودہ  تلوار سے سر پر وار کرکے زخمی کیا ۔ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لایا گیا اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے، دو روز تک علی بن ابی طالب بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے آخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت واقع ہوئی۔ حضرت امام حسن علیہ السلام و حضرت امام حسین علیہ السلام نے آپ کی تجہیزو تکفین کی اور آپ کو نجف کی سرزمین میں دفن کردیا جہاں آپ کا روضہ مبارک آج بھی عالم انسانیت کے لئے ہدایت کا وسیلہ ہے۔

تبصرہ ارسال

9 + 7 =