امریکہ وہابی دہشت گردوں کا اصلی حامی و مددگار/ شام کے کیمیائی ہتھیار اقوام متحدہ کے پاس

خبر آئی ڈی: 3946826 -
اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں خطیب جمعہ نے شام کے الشعیرات ایئر پورٹ پر امریکی میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ، سعودی عرب اور اسرائیل وہابی دہشت گردوں کے اصلی حامی ممالک ہیں شام پر امریکہ کا بزدلانہ حملہ وہابی دہشت گردوں کو بچانے کی امریکی کوشش کا حصہ ہےشام پر کیمیائی ہتھیاروں کا الزام بے بنیاد ہے شام کے کیمیائی ہتھیار اقوام متحدہ کے پاس ہیں ۔۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ آیت اللہ امامی کاشانی کی امامت میں منعقد ہوئی ، جس میں لاکھوں مؤمنین نے شرکت کی۔ خطیب جمعہ نے شام کے الشعیرات ایئر پورٹ پر امریکی میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ  امریکہ ، سعودی عرب اور اسرائیل وہابی دہشت گردوں کے اصلی حامی ممالک ہیں شام پر امریکہ کا بزدلانہ حملہ وہابی دہشت گردوں کو بچانے کی امریکی کوشش کا حصہ ہے شام پر کیمیائی ہتھیاروں کا الزام بے بنیاد ہے شام کے کیمیائیہتھیار اقوام متحدہ کے پاس ہیں ۔

خطیب جمعہ نے کہا کہ خطے میں جاری  امریکی جرائم میں  اسرائیل اور سعودی عرب بھی برابر کے شریک ہیں۔۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ مستقل مسلم ممالک کے خلاف اپنی معاندانہ سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سعودی عرب سے بھر پور استفادہ کررہا ہے اور نام نہاد خادم الحرمین آج امریکی طاغوتی حکومت کا خادم اور غلام بنا ہوا ہے۔ خطیب جمعہ نے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کو امریکہ نے تشکیل دیا اور امریکہ ہی انھیں پیشرفتہ ہتھیار فراہم کررہا ہے البتہ امریکہ کو اس سلسلے میں اسرائیل اور سعودی عرب کا بھر پور تعاون بھی حاصل ہے۔ خطیب جمعہ نے کہا کہ فلسطینیون کے خلاف اسرائيلی جرائم اور یمنیوں کے خلاف سعودی عرب کے بھیانک جرائم یکساں ہیں۔ اور یہ دونون ملک امریکہ کے پٹھو، امریکہ کے مزدور اور امریکہ کے غلام ہیں۔

خطیب جمعہ نے ایران کے آئندہ صدارتی  انتخابات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں عوام کی بھر پور شرکت ملک کی ترقی، استقلال اور آزادی کا مظہر ہوگی ۔ لہذا ایرانی عوام کو چاہیے کہ وہ صدارتی انتخابات میں اپنے ووٹ کا استعمال کرکے ایران کے خلاف عالمی سامراجی طاقتوں کے شوم منصوبوں کو ناکام بنادیں۔

خطیب جمعہ نے مزاحمتی اقتصادی پالیسیوں کو اہم قراردیتے ہوئے کہا کہ آج دشمن کے ساتھ اقتصادی اور ثقافتی میدان میں ہماری جنگ جاری ہے لہذا اس جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے مزاحمتی اقتصادی پالیسیوں پر عمل ضروری ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

1 + 2 =