سعودی عرب میں حج کے انتظامی امور کی اہلیت نہیں / سعودیہ نے 1400 سالہ اسلامی ثقافت کو تباہ کردیا

خبر آئی ڈی: 3931406 -
سعودی عرب کے سابق بادشاہ کے مشیر نے کہا ہے کہ حج کے انتظامی امور کو صرف سعودی عرب کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے امریکی صدر ٹرمپ مشرق وسطی کےعرب حکمرانوں کا نوکر اور غلام ہے جو پیسہ لیکر ان کےلئے کچھ بھی کرسکتا ہے سعودی عرب میں حرمین شریفین کے انتظامی امور کی اہلیت موجود نہیں ہے کیونکہ انھوں نے اسلام کی 1400 سالہ میراث اور ثقافت کو تباہ و برباد کردیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہفنگٹن پوسٹ نے جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے استاد پروفیسر حسین عسکری کا مقالہ شائع کیا ہے کہ جس میں  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر روشنی ڈالی گئی ہے اور اس مقالہ میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ امریکہ پیسہ لیکر سعودی عرب کی غلامی اور مزدوری کررہا ہے۔

مہر نیوز کے نامہ نگار نے اس حوالے سے پروفیسر حسین عسکری کے ساتھ گفتگوکی ہے پروفیسر حسین عسکری سعودی عرب کے سابق بادشاہ ملک عبداللہ کے مالی مشیر رہے ہیں اور وہ پہلے اقتصاد داں ہیں جنھوں نے تیل کی قیمت 40 ڈالر تک پہنچنے کی پیشنگوئی کی تھی ۔

عسکری بین الاقوامی تجارت اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے بین الاقوامی امور کے استاد بھی ہیں ۔عسکری نے اقتصاد کے سلسلے میں  20 کتابیں اور 100 مقالات تحریر کئے ہیں۔ وہ امریکہ کی کئی یونیورسٹیوں میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔

مہر نیوز کے نامہ نگار نے حسین عسکری سے سوال کیا کہ آپ نے اپنے مقالے میں صدر ٹرمپ کو مشرق وسطی کے عربوں بالخصوص سعودی عرب کا غلام اور مزدور قراردیا ہے اس کے بارے میں مزید وضاحت کریں؟  اس نے کہا کہ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ جب تک سعودی عرب اسے رقم ادا کرتا رہے گا وہ سعودی عرب کا ایران اور دیگر ممالک کے مقابلے میں دفاع کرےگا اس قسم کی پالیسی غلامانہ پالیسی ہے اور اس بات سے ہم سب بخوبی آگاہ ہیں۔

عسکری کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب اور ایران کے درمیان کسی قسم کی کشیدگی پیدا ہوئی تو ٹرمپ سعودی عرب کا دفاع کرےگا اور میرے خیال کے مطابق سعودی عرب جان بوجھ کر بھی  ایران کے خلاف کشیدگی بڑھا سکتا ہے ممکن ہے سعودی  عرب،  ایران کے کسی جہاز کو گرا کر ، یا کسی ایرانی کشتی پر حملہ کرکے یا ابو موسی جزیرے میں کسی واقعہ کو رونما کرکے کشیدگی بڑھا سکتا ہے  اور اسطرح وہ امریکہ اور ایران کو ایکدوسرے کے آمنے سامنے قراردے سکتا ہے۔

عسکر کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب کے اندر آل سعود کے خلاف کوئی تحریک جنم لیتی ہے تو بھی ٹرمپ آل سعود کی حمایت میں میدان میں آسکتا ہے کیونکہ اسے پیسہ کی ضرورت ہے اور پیسہ اسے آل سعود سے ملےگا۔ لہذا ٹرمپ آل سعود اور اسرائیل کی حمایت میں کچھ بھی کرسکتا ہے۔ آل سعود کو ٹرمپ کے دورے حکومت میں کہیں زیادہ آرام و سکون حاصل ہے کیونکہ انھیں پیسہ دیکر اپنی حفاظت کو یقینی بنانا ہے اورٹرمپ پیسہ لیکر ان کی حفاظت کو یقینی بنائے گا کیونکہ وہ پیسے کا غلام ہے اور اس نے اعلان کررکھا ہے کہ وہ پیسہ لیکر سعودی عرب کو تحفظ فراہم کرےگا۔

حسین عسکری نے حرمین شریفین کے انتظامی امور کے سلسلے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں حرمین شریفین کے انتظامی امور کی اہلیت موجود  نہیں ہے کیونکہ انھوں نے اسلام کی 1400 سالہ میراث اور ثقافت کو تباہ و برباد کردیا ہے ، آل سعود نے پیغمبر اسلام(ص) ، ان کے اہلبیت (ع) اور ان کے اصحاب سے متعلق تمام آثار کو بے رحمی کے ساتھ محو کردیا ہے اور ان کی جگہ بڑے اور عالیشان ہوٹل بنا دیئے ہیں اور اس طرح آل سعود نے بے دردی کے ساتھ اسلامی تاریخ اور اسلامی ثقافت کو مٹا دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب  پر مسلط حکومت وہابی حکومت ہے اور وہابی اسلامی آثار کے سخت دشمن ہیں اور وہابیوں نے مکہ و مدینہ سے تمام اسلامی آثار اور اسلامی ثقافت کو تباہ وبرباد کردیا ہے اور اس عظیم تباہی کے پیش نظر عالم اسلام کو چاہیے کہ وہ حج کے انتظامی امور کو صرف سعودی عرب کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں بلکہ حج کے انتظآمی امور کو اسلامی ممالک کی اعلی کونسل کے حوالے کرنے کے سلسلے میں تلاش و کوشش کریں۔

تبصرہ ارسال

2 + 11 =